Inf

توبہ قبول ہونے کی چار شرطیں ہیں جنکے بغیر توبہ قبول نہیں ہوتی۔



للللہ   تعالیٰ سے معافی مانگنے کا طریقہ اور معافی مانگ کر اللہ کا پیارا پنانےکا طریقہ  یہ ہمار ا آج کا موضوع ہے۔ للللہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ  وہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتاہےاور محبت کرتا رہے گا۔ جب تک وہ توبہ کرتے رہیں گے ۔



         

اور توبہ قبول ہونے کی چار شرطیں ہیں

1.  توبہ قبول ہونے کی پہلی شرط۔
۔
۔ گناہ سے الگ ہو جائے ، گناہ کرتے ہوئےکہنا کہ توبہ توبہ توبہ توبہ تو ایسی توبہ قبول نہین ہوتی کیونکہ حالت گناہ میں نزول غضب ہو رہا ہے اور توبہ نزول رحمت کاذریعہ ہے اور غضب کے ساتھ رحمت جمع نہیں ہو سکتتی  کیونکہ  رحمت اور  غضب میں تضاد ہے اور اجتماع ضد ین محال ہے۔ بعض لوگ بڑے بڑے وظیفے پڑتے ہیں ۔ لیکن گناہ نہیں چوڑتے۔ اس لیئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے للللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔ حالت نافرمانی میں زیادہ دیر تک رہنا اچھا نہیں ہے اس اللللہ کا غضب بھی ہے اور عقل کے خلاف بھی ہے جس سے آدمی کوئی چیز لینا چاہتا ہے پہلے اس کو خوش کرتا ہے۔ خوش کرنے کے بعد اس کی عطااور مہربانی  و بخشش لیتاہے۔ پہلے اپنی بخشش کرواتا ہے پھر بخشش مانگتا ہے۔ کہ اب بخشش لائیے کیونکہ ہم نے آپ سے بخشش مانگ لی ہے خطاؤ ن کی معافی مانگ لی۔ جس مالک سے سب امیدی لگائے بیٹھے ہیں  اس کو ناراض کرنے کی کہاں کی عقلمندی ہے ۔جب کے مر کے اسی کے پاس جاناہے ۔

نہ جانے بلا لے پیا کس گھڑی
تو رہ جائے تکتی کھڑی کی کھڑی

اگر اچانک موت آگئی تو کس حالت میں جاؤ گے اور اگر موت نہ بھی آئے تو  خو د کیا موت ہے کہ اللللہ   کی نافرمانی اور مولی کی براضگی میں جی رہے ہو۔یہ زندگی نہین ہے شرمندگی ہے  زندگی تو نام بندگی کا ہے۔
گناہ سے تو کسی کو مفر نہیں ہے کیونکہ سرور عالم ﷺ کا ارشاد ہے کہ  تم سب خطا کار ہو۔ سب انسان خطا کار ہیں سوائے انبیاء کرام کے وہ مستشیٰ ہیں لیکن بہترین خطا کار وہ ہیں جو معافی مانگ لیتے ہیں۔ اور  توبہ کرلیتے ہیں۔ کیونکہ اللللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ہیں اور کرتے رہیں گا،  جب تک وہ توبہ کرتے رہیں گے۔

2۔ قبول توبہ کی دوسری شرط۔

اور توبہ کے قبول ہونے کی دوسری شر ط یہ ہے کہ دل میں ندامت بھی ہو " گناہ پر ندامت کا ہونا علامت  قبول ہے۔
ابلیس کو آج تک ندامت نہیں ہے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ ایک صاب ِ کشف بزرگ نے کہا ابلیس نے کہا تھا  اَنِظرنیِ  کہ مجھے مہلت دیجیے قیامت تک اپنے بندوں کو گمراہ کرنے کےلئے لیکن اگر یہ ظالم اَنظِرنِی کے بجائے اٌ نظٌراِ لَیَّ  کہ دیتا  کہ ایک نظر رحمت مجھ پر ڈال دیجیے تو یہ بخش دیا جاتا ۔ تو ندامت علامت قبول ہے۔ توبہ کی دوسری شرط ہےکہ نادم ہو جاؤ، شرمندہ ہو جاؤ 
کہ ہم نے اچھا کا م نہیں کیا۔
3۔ قبول توبہ کی تیسری شرط۔
3۔ تیسری شرط ہے  " پکا اردادہ کر کہ اب کبھی اللللہ کو ناراض نہیں کرنا ہے اور نہ گناہ کرنے کا عزم مصمم یعنی پکا ارادہ کرو لیکن شکست ِ توبہ کا وسوسہ  آئے تو وسوسہ مانع قبول نہیں بلکہ تکمیل قبول کا ذریعہ ہے کہ اللللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ میرا بندہ اپنے دوست بازو پر بھروسہ نہیں کرتا یہ بازو میرے ازمائے ہوئے ہیں ۔
اور کہ رہا ہے کہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

 4۔ قبول توبہ کی چوتھی شرط۔
چوتھی شرط یہ کہ کسی کا حق مار ا ہو تو اس کا حق ادا کرو، کسی کا  مال لیا ہو تو مال واپس کردوو۔ مال واسپ کرکے کہو کہ  ہم نے جو مال لیا جس سے آپ کو غم پہنچا اور اتنے دن تک ہم نے مال واپس نہیں کیا تو آب ہم کو معاف کر دیں۔ اور اللللہ تعالیٰ سے بھی معافی مانگ لو کہ اتنے روز تک آپ کے بندہ کی گھڑی ہم نے رکھی ہو ئی تھی اور واپس کرنے میں سستی کاہلی کی اور آپ کے بندہ کو تشویش میں رکھا  اس لئے آپ سے معافی چاہتے ہیں ۔ یہاں بندہ کا بھی حق ہے، مولیٰ کا  بھی حق ہے اس لیئے بندہ سے بھی معافی مانگو اور پھر مولیٰ سے بھ معافی مانگو کہ میں نے آپ  کے بندوں کو کیوں ستایا ۔ جیسے اگر کسی کے بیٹے کو ستایا ہے تو بیٹے ہی سے معافی مانگنا کافی نہیں اباّ سے بھی معافی مانگو کیونکہ بیٹے کو ستانے باپ کو جو غم پہنچا ہےتو باپ سے معافی مانگنا ضروری ہے۔ ایسے ہی بندوں کو ستانے والوں کو چاہئے کہ خالی بندوں سے معافی مت مانگو،  بندوں کے ربّ سے بھی معافی مانگو۔ ہمارے  بزرگوں نے فرمایا ہے کہ  بعض بندے اللہ کے اتنے قریب اور پیارے ہوتے ہیں کہ اگر وہ معاف کربھی دیں تو اللللہ معاف نہیں کرتا اور انتقام لیتا ہے۔
لہذا دوستوں قصہ اور مثالیں بہت ہیں پرمختصر  یہ کہ   مندرجہ بالا چار شرائط پوری کرنے سے ہی آپ کی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔





Previous
Next Post »

2 comments

Click here for comments
Ahsan
admin
August 4, 2018 at 8:34 AM ×

Nice post bro http://paktech.ooo

Reply
avatar

this this page ConversionConversion EmoticonEmoticon

Blog Archive

About Me